Inqlabi Nazm By Zeeshan Ameer Saleemi


 

اب یہ قانون نہیں، قید کا دربان ہوا
اب یہ انصاف نہیں، ظلم کا سامان ہوا
جن کے لب پر تھی کبھی حرفِ وفا کی خوشبو
اب وہی لفظ فقط خنجرِ انسان ہوا
میں وہ قرطاس ہوں، جو آگ میں جلتا ہوا
میں وہ اک خواب ہوں، جو زخموں میں ہے ڈھلتا ہوا

خوف کی گرد میں اب خواب جلانے دو مجھے
زخم کہتا ہے، وہی شور دکھانے دو مجھے
میں نے ہر دور میں صدق و صفا کی بات کی ہے
اب انہی باتوں کو تکرار بنانے دو مجھے
میں وہ احساس ہوں، جو زخم جلاتا رہا ہوں
میں وہ اعلان ہوں، جو خود کو سناتا رہا ہوں

آج بھی حرفِ صداقت کی مہک باقی ہے
میرے لہجے میں بغاوت کی جھلک باقی ہے
جس زمیں پر کبھی ظالم نے جلا دی تھی امید
اُس زمیں پر مرے خوابوں کی چمک باقی ہے
میں وہ آواز ہوں جو وقت سے ٹکرائی تھی
میں وہ چنگاری ہوں، جو راکھ سے اُٹھ آئی تھی

آج بھی خاک سے خوشبوئے وفا اُٹھتی ہے
آج بھی فاقہ کشوں کی یہ دعا اُٹھتی ہے
جو جھکاتے نہیں سَر، ان کا لہو شعلہ ہے
ہر زمانے میں صداقت کی صدا اُٹھتی ہے
میں وہ ایمان ہوں، جو زخموں میں پلتا ہے ابھی
میں وہ اعلان ہوں، جو خاک سے جلتا ہے ابھی

اب نہ مصلوب ہوا دل، نہ پشیمان ہوا
اب تو ہر زخم مرا نقشِ علم دان ہوا
جو کبھی خوف کا سایہ مرے پہلو میں تھا
اب وہی درد مری شان کا عنوان ہوا
میں وہ آواز ہوں، پتھر بھی پگھل جائیں گے
میں وہ کردار ہوں، صدیوں میں نکل جائیں گے

اب وہ لمحہ ہے، جو طوفان بنا جائے گا
اب وہ انسان ہے، ایمان بنا جائے گا
ہم نے سیکھا ہے لہو سے نیا سجدہ کرنا
اب کوئی خوف ہمیں روک بھی نہ پائے گا
میں وہ طوفان ہوں، دیوار ہلا سکتا ہوں
میں وہ اعلان ہوں، دنیا کو جگا سکتا ہوں

اب سخن بن کے لہو بولنے والا ہے کوئی
خواب مٹی سے نیا تولنے والا ہے کوئی
جن کے قدموں نے زمانے کو جگایا تھا کبھی
پھر اُسی روشنی کو کھولنے والا ہے کوئی
میں وہ جذبہ ہوں، جو تلوار سے ٹکرائے گا
میں وہ لہجہ ہوں، جو ایوان کو لرزائے گا

اب مرے خون کی تحریر جلے گی شاید
اب مرے درد سے تقدیر چلے گی شاید
جس زمیں پر کبھی خوں ریز ہوا تھا سورج
پھر اُسی خاک سے تنویر پھلے گی شاید
میں وہ تکرار ہوں، افکار بنے رہتے ہیں
میں وہ کردار ہوں، آثار بنے رہتے ہیں

اب سلاسل کی صدا خواب بنائے گی کوئی
اب اندھیروں میں چراغوں کو جلائے گی کوئی
جن کے لہو سے یہ مٹی ہوئی آباد کبھی
اب اسی مٹی سے دنیا کو سجائے گی کوئی
میں وہ آواز ہوں، خاموش نہیں ہو سکتا
میں وہ کردار، فراموش نہیں ہو سکتا

اب ضمیروں کی عدالت میں صدا گونجی ہے
اب قلم دشمنِ خنجر سے وفا گونجی ہے
جن کے الفاظ میں اک خواب کا آہنگ چھپا
ان کے لہجے میں حقیقت کی سزا گونجی ہے
میں وہ اعلان ہوں، جو تخت اُڑا دیتا ہے
میں وہ طوفان ہوں، جو وقت ہلا دیتا ہے

اب یہ مقتل نہیں، شعروں کا دبستان بنے
اب یہ زنداں نہیں، انسان کا ایمان بنے
جن کے قانون نے چھینا ہے ضیا اور ضمیر
اب انہی ہاتھوں سے پھر عدل کا میزان بنے
میں وہ تکرار ہوں، جو خواب جلا دیتی ہے
میں وہ سرشار ہوں، جو دار ہِلا دیتی ہے

جاگ اُٹھنے دو ذرا خواب کے ماروں کو ابھی
روشنی بانٹنے دو تیرہ حصاروں کو ابھی
جن کے کندھوں پہ ہے گزرے ہوئے طوفاں کا بوجھ
ان ہی ہاتھوں سے بدلنے دو ستاروں کو ابھی
میں وہ نعرہ ہوں، جو دیوار گرا سکتا ہے
میں وہ اک جذبہ ہوں، جو پرچم اُٹھا سکتا ہے

میں وہ پیمانہ ہوں، جو زہر بھی پی سکتا ہے
میں وہ مجنوں ہوں، جو خنجر سے بھی جی سکتا ہے
میرے کردار میں اک وقت کی خوشبو باقی
میں وہ اک عہد ہوں، جو وقت میں جی سکتا ہے
میں وہ تلوار ہوں، جو حرف میں ڈھل سکتی ہے
میں وہ سچائی ہوں، جو دار پہ چل سکتی ہے

ظلم کے نام پہ احکام سنا سکتے ہو
حق کے پیکر کو بھی الزام بنا سکتے ہو
یہ تمہاری ہے خدائی، یہ تمہارا قانون
نفسِ انسان کو بھی دام بنا سکتے ہو
یہ تمہارا ہے زمانہ، یہ تمہارا دستور
جوتوں کی نوک پہ میری لے پڑا ہے منشور

تبصرہ بر نظمِ انقلابی بقلم: ڈاکٹر فرحان علی حیدر، برلن (جرمنی)

لیکچرار و نقادِ ادبِ جدیدہ

اب یہ قانون نہیں، قید کا دربان ہوا
اب یہ انصاف نہیں، ظلم کا سامان ہوا

یہ مطلع گویا نظم کے سارے لہجے کا اعلان ہے شاعر نے آغاز ہی میں ’’قانون‘‘ اور ’’انصاف‘‘ جیسے مقدس الفاظ کو ان کے الٹ معنوں میں پیش کر کے بغاوت کی چنگاری روشن کی ہے یہاں ’’قید کا دربان‘‘ اور ’’ظلم کا سامان‘‘ وہ استعارے ہیں جو کسی مردِ آزاد کی چیخ کو نظام کے سینے پر لکھ دیتے ہیں ذیشانؔ امیر سلیمی کا لب و لہجہ یہاں حبیب جالب کی صدائے احتجاج سے ملتا ہے مگر الفاظ کی تہذیبی نزاکت اور عروضی توازن ان کا اپنا رنگ ہے۔

جن کے لب پر تھی کبھی حرفِ وفا کی خوشبو
اب وہی لفظ فقط خنجرِ انسان ہوا

یہاں شاعر نے وفا کے مقدس مفہوم کو انسان کے زوال سے جوڑ دیا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ جب لفظوں میں روح نہیں رہتی تو وہ خنجر بن جاتے ہیں یہ ایک تہذیبی مرثیہ بھی ہے اور اخلاقی احتجاج بھی ذیشانؔ نے ’’حرف‘‘ اور ’’خنجر‘‘ کے مابین تضاد سے ایک عمیق فکری تاثر پیدا کیا ہے جو کلاسیکی شعریات کا خاصہ ہے

میں وہ قرطاس ہوں، جو آگ میں جلتا ہوا
میں وہ اک خواب ہوں، جو زخموں میں ہے ڈھلتا ہوا

یہاں شاعر اپنے وجود کو ’’قرطاس‘‘ اور ’’خواب‘‘ سے تشبیہ دے کر اس اذیت کو ظاہر کرتا ہے جو فکر اور احساس کی تخلیق میں جلنے سے پیدا ہوتی ہے یہ علامتی بند ہے جہاں انسانِ شاعر خود ایک عہد کا استعارہ بن جاتا ہے

خوف کی گرد میں اب خواب جلانے دو مجھے
زخم کہتا ہے، وہی شور دکھانے دو مجھے

یہاں شاعر خوف کے خلاف اعلانِ بغاوت کرتا ہے ’’خواب جلانے‘‘ کا مطلب خواب کو فنا نہیں کرنا بلکہ انہیں روشنی کے نئے دائرے میں زندہ کرنا ہے اس بند میں وہی توانائی جھلکتی ہے جو اقبال کے ’’شعلہ بن کے پھونک دے خاشاکِ غیرتِ دوں‘‘ میں ملتی ہے

میں نے ہر دور میں صدق و صفا کی بات کی ہے
اب انہی باتوں کو تکرار بنانے دو مجھے

یہ بند شاعر کی فکری استقامت کا مظہر ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر سچ تکرار بن جائے تب بھی وہ اسے دہرانے سے باز نہیں آئے گا۔ یہ مصرع دراصل ’’ثباتِ قدم‘‘ کا اعلان ہے ذیشانؔ کا لہجہ یہاں متین مگر پرجوش ہے، ایک فکری بغاوت کے ساتھ۔

میں وہ احساس ہوں، جو زخم جلاتا رہا ہوں
میں وہ اعلان ہوں، جو خود کو سناتا رہا ہوں

یہاں شاعر اپنی داخلی صداقت کو عیاں کرتا ہے ’’زخم جلاتا رہا‘‘ کا مفہوم یہ ہے کہ اس نے درد کو بھی حرارتِ حیات میں بدلا ہے ’’اعلان‘‘ کا خود سے سننا ایک صوفیانہ تمثیل ہے یہاں بغاوت اور تصوف کا حسین امتزاج ہے

آج بھی حرفِ صداقت کی مہک باقی ہے
میرے لہجے میں بغاوت کی جھلک باقی ہے

یہ بند نظم کا روحانی مرکز ہے یہاں شاعر اپنے لہجے میں صداقت کی خوشبو کو بغاوت سے ہم آہنگ کر کے بتاتا ہے کہ حق کی مہک کبھی مٹ نہیں سکتی اس مصرع میں ’’مہک‘‘ اور ’’بغاوت‘‘ کا ساتھ انسانی تاریخ کی روشنی اور تاریکی دونوں کو جمع کر دیتا ہے


جس زمیں پر کبھی ظالم نے جلا دی تھی امید
اُس زمیں پر مرے خوابوں کی چمک باقی ہے

یہ بند مکمل فتح کا اعلان ہے ذیشانؔ نے یہاں مایوسی کی خاک سے امید کے ستارے اگائے ہیں۔ ’’زمین‘‘ یہاں محض مٹی نہیں بلکہ وہ ضمیر ہے جس میں ظلم کی راکھ سے روشنی پھوٹتی ہے

میں وہ آواز ہوں جو وقت سے ٹکرائی تھی
میں وہ چنگاری ہوں، جو راکھ سے اُٹھ آئی تھی

یہاں شاعر اپنی انقلابی آواز کو تاریخ کی تسلسل میں رکھتا ہے ’’چنگاری‘‘ کا راکھ سے اٹھنا ایک علامتی نشاۃِ ثانیہ ہے یہ بند گویا انسان کے اندر دفن حرارتِ ایمان کی بیداری ہے

آج بھی خاک سے خوشبوئے وفا اُٹھتی ہے
آج بھی فاقہ کشوں کی یہ دعا اُٹھتی ہے

یہ بند عوامی درد کا نمائندہ ہے ذیشانؔ نے طبقاتی اور اخلاقی دونوں زوالات کو وفا اور دعا کے استعاروں سے جوڑا ہے۔ ’’فاقہ کشوں‘‘ کی دعا کا ذکر ایک اجتماعی انقلاب کی خوشبو لاتا ہے

جو جھکاتے نہیں سَر، ان کا لہو شعلہ ہے
ہر زمانے میں صداقت کی صدا اُٹھتی ہے

یہ بند ایک مکمل انقلابی منشور ہے شاعر نے قربانی اور صداقت کو ایک دوسرے میں ضم کر کے امرت کا درجہ دیا ہے۔ یہ لہجہ جلال الدین رومی کی حق گوئی اور حبیب جالب کی حرارت دونوں کی یاد دلاتا ہے

میں وہ ایمان ہوں، جو زخموں میں پلتا ہے ابھی
میں وہ اعلان ہوں، جو خاک سے جلتا ہے ابھی

یہاں ’’ایمان‘‘ کو زخم سے اور ’’اعلان‘‘ کو خاک سے وابستہ کر کے شاعر نے ایک گہری فکری تمثیل قائم کی ہے۔ ایمان کا پلنا زخموں میں، گویا تکلیف ہی سچ کی ماں ہے

اب نہ مصلوب ہوا دل، نہ پشیمان ہوا
اب تو ہر زخم مرا نقشِ علم دان ہوا

یہ بند گویا قربانی کے فلسفے کی نئی تعریف ہے ’’نقشِ علم دان‘‘ کا استعارہ بتاتا ہے کہ ہر زخم علم و آگہی کا دروازہ ہے یہ فکر میراثِ حسینؓ سے پھوٹتی ہے

میں وہ آواز ہوں، پتھر بھی پگھل جائیں گے
میں وہ کردار ہوں، صدیوں میں نکل جائیں گے

یہ بند قوتِ ارادی اور دوامِ کردار کا بیان ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ آواز اگر سچی ہو تو پتھروں کو بھی نرم کر دیتی ہے

اب وہ لمحہ ہے، جو طوفان بنا جائے گا
اب وہ انسان ہے، ایمان بنا جائے گا

یہ بند نظم کا انقلابی عروج ہے ذیشانؔ نے یہاں انسان کو ایمان کا مترادف بنا کر انسانیت کی معراج دکھائی ہے۔

ہم نے سیکھا ہے لہو سے نیا سجدہ کرنا
اب کوئی خوف ہمیں روک بھی نہ پائے گا

یہ بند قربانی، عبادت، اور بغاوت تینوں کے ملاپ کا حسین مظہر ہے ’’لہو سے سجدہ‘‘ گویا ایمانِ کامل کی علامت ہے


میں وہ طوفان ہوں، دیوار ہلا سکتا ہوں
میں وہ اعلان ہوں، دنیا کو جگا سکتا ہوں

یہ بند ایک مجاہدِ فکر کا کامل تعارف ہے۔ یہاں شاعر کا لہجہ خالص اقبالؔی ہو جاتا ہے

اب سخن بن کے لہو بولنے والا ہے کوئی
خواب مٹی سے نیا تولنے والا ہے کوئی

یہاں شاعر اپنی نسل کے نئے شاعر کی آمد کا اعلان کرتا ہے ’’لہو بولنے‘‘ کا تصور انقلابی ادب کی روح ہے


میں وہ جذبہ ہوں، جو تلوار سے ٹکرائے گا
میں وہ لہجہ ہوں، جو ایوان کو لرزائے گا

یہ بند مزاحمت کی انتہا ہے ذیشانؔ نے یہاں لفظوں کو تلوار کا درجہ دیا ہے، اور یہی شاعر کا اصل ہتھیار ہے

میں وہ اعلان ہوں، جو تخت اُڑا دیتا ہے
میں وہ طوفان ہوں، جو وقت ہلا دیتا ہے

یہ بند اپنے لہجے میں عہدِ نو کا استعارہ ہے یہاں شاعر کا قلم تخت و تاج کے خلاف بغاوت کا پرچم بن کر لہراتا ہے

اب یہ مقتل نہیں، شعروں کا دبستان بنے
اب یہ زنداں نہیں، انسان کا ایمان بنے

یہ بند نظم کی روحانی تکمیل ہے شاعر نے ظلم کی جگہ علم، اور قید کی جگہ ایمان کو پیش کر کے انقلاب کی مثبت سمت دکھائی ہے

میں وہ آواز ہوں، خاموش نہیں ہو سکتا
میں وہ کردار، فراموش نہیں ہو سکتا

یہ اختتام نہیں، آغاز کا اعلان ہے ذیشانؔ نے اپنے وجود کو دوام بخشا ہے

اجمالی تبصرہ:

ذیشانؔ امیر سلیمی کی یہ نظم جدید اردو ادب میں انقلابی شاعری کی ایک روشن مثال ہے ان کا کلام نہ صرف فکری عمق رکھتا ہے بلکہ عروضی و لسانی لحاظ سے بھی اعلیٰ نمونہ ہے زبان شستہ، بیان جلالی، اور جذبہ صادق ہے

ذیشانؔ امیر سلیمی نے فکرِ اقبال کی روشنی میں حبیب جالب کے لہجے اور فیض کے درد کو یکجا کر کے ایک نیا اسلوب پیدا کیا ہے جس میں بغاوت عبادت بن جاتی ہے، اور درد صداقت

یہ نظم ایک آئینہ ہے جس میں ایک زندہ قوم کی روح بولتی ہے

ذیشانؔ امیر سلیمی کی فکر، فن اور اسلوب تینوں اس عہد کے لیے چراغِ راہ ہیں






#ZeeshanAmeerSaleemi #InqlabiNazm #RevolutionaryPoetry #UrduLiterature #ClassicalSpirit #VoiceOfTruth #PoetOfResistance #Inqlab #PoetryOfChange #ModernIqbal #SoulOfRebellion #WordsOfFire #TruthInFlames #ZeeshanTheVoice #RebelPoet #KalamEInqilab #ResistanceLiterature #AdabKeShaheen #FikrAurEhsas #NayiSochKaShair #RevolutionInRhymes #PoetryTraining #ZeeshanTrainingSession #LearnFromZeeshan #MotivationThroughPoetry #AzadiOfThought #UrduAdabRevival #RebelWithWords #AwakenTheNation #TafakkurKaSafar #KalamKiTaqat #ZeeshanSchoolOfThought #PoetForJustice #QalamSeBoleInqilab #InqilabiAwaaz #SochKiJang #FikrKaToofan #AndroonSeUthtaSawal #BebakLafz #ZeeshanRevolution #UrduRenaissance #FikrEJadeed #ZeeshanTheThinker #PowerOfExpression #HumanityThroughWords #KalamKaJadoo #ResistanceTraining #PoetryAsProtest #FikrKaSafar #InqilabiFikr #ZeeshanPhilosophy #ShairEInqilab #InspirationThroughAdab #RevolutionaryTraining #FikrAurFun #ZeeshanLectures #PoeticLeadership #TrainingOfMind #ZeeshanMovement #RebelSpirit #KalamJoJagaye #AzadiKaFikr #PoetOfFire #DilSeInqilab #WordWarrior #LahuSeLikhaKalam #AdabiRevolution #FikrSeAzadi #ZeeshanAmeer #VoiceOfTheVoiceless #UnheardRevolution #AndheronMeinChiragh #PoetOfCourage #IlmAurFikr #TruthSpeaker #ZeeshanLegacy #InqlabiSoch #BebasiSeBaghawatTak #PoetryTherapy #ZeeshanVision #RebelMindset #InspirationInWords #FikrKaJunoon #ZeeshanIntellectual #ChangeThroughArt #NazmSeNayaFikr #ZeeshanRebellion #LearningFromPoets #ZeeshanWorkshops #AwarenessTraining #HumanRightsPoetry #JusticeInRhymes #SochKaSilsila #FikrKaManzar #ZeeshanSays #UrduAdabKiAwaz #VoiceForJustice #ZeeshanPhilosophyTraining #InqlabiJazba #PoetOfHope #SocialAwakening #RebelPen #PoeticTrainingCamp #AdabAurInqilab #TrainingThroughWords #ZeeshanRevolutionaryVoice #LearnFromRebellion #KalamSeTabdeeli #RevolutionarySpirit #UrduInspiration #ZeeshanPoeticSchool #AwazENafs #TrainingForTruth #ZeeshanKaFikr #FikrKiAzadi #WordRevolution #RevolutionaryLearning


Comments

Popular posts from this blog

Zeeshan Ameer Saleemi: The Poet of Separation

Global Poet 2026 and Pride of Pakistan

Some of the most Famous Poets in the World