Urdu Gazal Zeeshan Ameer Saleemi
غزل یہی تو ذوقِ طلب تھا کہ تشنہ کام چلے نہ پیاس بجھ سکی ہم سے، نہ لب بہ جام چلے وہ ایک لمسِ نظر تھا کہ عمر بھر کے لیے مرے شعور میں موسم سرِ دوام چلے جو ایک یاد تھی، ٹھہری رہی رگِ جاں میں اسی سے خواب، اسی سے مرے کلام چلے دلِ شکستہ نے سیکھا یہ فن گلابوں سے کہ زخم کھا کے بھی خوشبو بہ اہتمام چلے کسی کا ہو کے بھی روشن چراغِ بے آواز مرے خیال کے ویرانوں میں مدام چلے تری جفا میں بھی پوشیدہ تھا سلیقۂ ضبط کہ اشک اشک مگر...